باز آفرینی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - دوبارہ وجود میں لانا۔ "لاشعوری استعاروں میں نفسی کیفیات کی باز آفرینی ہی فن کار کا مقصد رہ جاتا ہے۔" ( ١٩٦٨ء، مثبت قدریں، ٧٠ )
اشتقاق
فارسی مصدر آفریدن سے مشتق صیغۂ امر 'آفریں' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگنے سے 'آفرینی' اسم کیفیت بنا اور فارسی متعلق فعل 'باز' بطور سابقہ لگنے سے 'باز آفرینی' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔
مثالیں
١ - دوبارہ وجود میں لانا۔ "لاشعوری استعاروں میں نفسی کیفیات کی باز آفرینی ہی فن کار کا مقصد رہ جاتا ہے۔" ( ١٩٦٨ء، مثبت قدریں، ٧٠ )
جنس: مؤنث